Saturday, 23 April 2016

سانپ کے کاٹے کا دیسی علاج
سانپ کے کاٹے کا دیسی علاج

سانپ کے کاٹے کا دیسی علاج

نسخہ اُم لشفاء
سانپ کے کاٹے کے تھوڑی دیر بعد زہر سارے جسم پر پھیلنا شروع ہو جاتا ہے کاٹے کی جگہ پر شدیر درد ہوتا ہے اس کے ساتھ سر میں درد چکر اور آنکھوں میں دھندلا پن ہوتا ہے ہوش گم ہو جاتا ہے سر ایک طرف جھک جاتا ہے پیر اور ہاتھ اکڑنے لگتے ہیں نبض بہت کمزور ہو جاتی ہے اور مریض مکمل طور پر بے ہوش ہو جاتا ہے

سانپ کے کاٹے کا دیسی علاج

جس جگہ سانپ نے ڈسا ہو اس سے اوپر 8 سینٹی میٹر دور کس کر بند باندھ دیا جائے اور ایک دوسرا بندھ اس بندھ سے 8 سینٹی میٹر دور لگایا جائے باندھنے کے بعد ڈسی ہوئی جگہ پر ایک صاف اور تیز چاقو یا استرے سے ایک گہرا نشان کی شکل میں لگائیں اس کے بعد گرم پانی ڈال کر زخم کو دھوئیں اس کے بعد زخم کی جگہ سے خون کو چوسا جائے یاباہر کی جانب کھینچا جائے اس طرح زہر نکل جائے گا ۔ نیچے لکھے ہوئے نسخے سانپ کے ڈسے کے لئے فائدہ کرتے ہیں
نسخہ نمبر 1

سانپ کے کاٹے کا دیسی علاج

ایک یا دو لہسن
ایک یا دو لہسن کے جوے یا ہینگ 125 ملی گرام شراب کے ساتھ کھلائیں ۔
نسخہ نمبر 2

سانپ کے کاٹے کا دیسی علاج

پیاز کافی مقدار میں شراب یا خالص گھی کے ساتھ کھلائیں
نسخہ نمبر 3
سانپ کے کاٹے کا دیسی علاج
مریض نیم کے پتے چبائے یہاں تک کہ پتوں کی کڑواہٹ محسوس ہونے لگے۔
نسخہ نمبر 4
سانپ کے کاٹے کا دیسی علاج
جمالگوٹہ پانی میں گھس کر آنکھوں میں لگائیں آنکھوں سے پانی بہہ گا ۔
اس دوا کے استعمال سے آنکھیں سرخ اور ان میں درد ہو جاتا ہے اس کو دور کرنے کے لئے عرق گلاب کو بار بار آنکھوں میں ڈالیں
نسخہ نمبر 5
سانپ کے کاٹے کا دیسی علاج
آک کا دودھ
ترکیب استعمال ۔ کاٹے کی جگہ پر ٹپکائیں
نسخہ نمبر 6
لیموں کے بیج  ایک گرام
ترکیب استعمال ۔
تھوڑے پانی میں پیس کر لیں
پانی میں پیس کر لیپ کریں اور کاٹے کی جگہ پر لگائیں ۔
انشاءاللہ سانپ کا زہر ختم ہو گا ۔
Skype ID  #   ummulshifaherbal
Help Line 24/7   +92 0334 7405881 this Number available at Whtsapp,Viber IMO
Open link     http://ummulshifa.com/urdu/

Different Themes
Written by Lovely

Aenean quis feugiat elit. Quisque ultricies sollicitudin ante ut venenatis. Nulla dapibus placerat faucibus. Aenean quis leo non neque ultrices scelerisque. Nullam nec vulputate velit. Etiam fermentum turpis at magna tristique interdum.

0 comments